بابا

Khansa Akhtar

ابا کے چہرے کی جھریوں میں میری عمر بستی ہے،  

ان کی سفید داڑھی میں چاندنی اور دعا ہنستی ہے۔

 

ان کی آنکھوں میں سمندر جیسا صبر ہے،  

جب غصہ بھی کریں تو لہجے میں شفقت اترتی ہے۔

 

ان کے کندھے چھت ہیں، دیوار ہیں، سہارا ہیں،  

دھوپ میں جل کر بھی ہمیں سائے میں رکھتے ہیں۔

 

ابا کے ہاتھوں کی کھردراہٹ میں برکت ہے،  

وہی ہاتھ جو روٹی لاتے ہیں، وہی ہاتھ سر پر پھیرتے ہیں۔

 

حسن یہ نہیں کہ وہ جوان لگیں،  

حسن یہ ہے کہ بوڑھے ہو کر بھی ہمارے لیے مضبوط کھڑے ہیں۔

 

ان کی خاموشی میں ہزار نصیحتیں ہیں،  

ان کی ایک "بیٹا خیال رکھنا" میں پوری دنیا ہے۔

 

مرد کا سب سے خوبصورت روپ اگر کوئی ہے،  

تو وہ باپ ہے...  

جو خود ٹوٹ کر بھی ہمیں جوڑتا ہے۔

  • Author: MuSa (Pseudonym) (Offline Offline)
  • Published: September 18th, 2026 04:03
  • Category: Unclassified
  • Views: 2
Comments +

Comments1

  • sorenbarrett

    This poem defines the father role that provides and guides that stands strong and firm and sets an example. Well written



To be able to comment and rate this poem, you must be registered. Register here or if you are already registered, login here.